اسلام آباد(ڈیلی پاکستان آن لائن)سابق وزیراعظم اورعوام پاکستان پارٹی کے مرکزی کنوینر شاہد خاقان عباسی کی ایک پرانی ویڈیو پھر وائرل ہو رہی ہے جس میں پنجاب حکومت پر تنقید کی جارہی ہے۔
وائرل ویڈیو میں شاہدخاقان عباسی کا کہناتھا کہ تعلیم اور صحت کے نظام بد سے بدتر ہوتے جارہے ہیں،پنجاب ایک پولیس اسٹیٹ بن چکی ہے،انتظامیہ ایم پی اے ، ایم این اے کی نہیں سنتی۔ایک ایم پی اے ایک پروجیکٹ کیلئےانتظامیہ کے پاس گئے اور کہا کہ اس میں میرا 5کروڑ کا حصہ ہے،آپ یہ بل ریلیز کردیں،تو اے سی نے کہاکہ یہ بل میں نے ریلیز کرنا ہے تو میرے بھی 10بنتے ہیں۔
سابق وزیراعظم کاکہناتھا کہ پٹواری لگانے اور ٹرانسفر کرنے ،ہر چیز میں پیسے ہیں،جو ڈوپلیمنٹ کے کام ہوتے ہیں اس میں پنجاب میں ایم این اے، ایم پی اے بھی پیسے لے رہے ہیں، انتظامیہ بھی لے رہی ہے۔
میزبان نے سوال کیا کہ کیا اس کی وجہ سے پورا لاہور اکھاڑہ ہوا ہے۔
شاہدخاقان عباسی نے کہاکہ بالکل، یہی بات ہے۔
اینکر نے کہاکہ لاہور کی ہر گلی میں ترقیاتی کام چل رہے ہیں ۔
شاہد خاقان عباسی نےکہاکہ آج حالت یہ ہو گئی ہے کہ ایم پی اے ، ایم این اے کو محکمے کے لوگ کہتے ہیں کہ جاؤ سکیم لے کر آؤیہ تمہارے پیسے ہیں۔
میزبان نے سوال کیا کہ پنجاب میں حکومت میں کمیشن کا ریٹ 10فیصد سے کئی گنا زیادہ بڑھ گیا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہاکہ جی بڑھ گیا ہے۔
شاہد خاقان عباسی کاکہناتھا کہ پنجاب میں کمیشن کا ریٹ کئی گنا سے زیادہ بڑھ چکا ہے،بزدار کے دور میں شاید کچھ بڑھ گیا ہو، پہلے دور میں 7سے 10فیصد ہوتا تھا، جو نارمل کمیشن انگریز کے زمانے سے چلا آ رہا ہے۔
میزبان نےسوال کیا کہ اب کتنا کمیشن وصول کیا جارہا ہے، 25،20یا 30فیصد،یا50فیصد کمیشن لیا جارہا ہے۔
سابق وزیراعظم نے کہاکہ ماڈل تبدیل ہو جاتا ہے،اب وہ تعمیر کے اندر شامل کردیا جاتا ہے،یہ سندھ کا ماڈل تھا،جو اب یہاں پر بھی آگیا ہے،ان کاکہناتھا کہ نان سٹینڈرڈ آئٹمز میں بے پناہ پیسہ بن جاتا ہے۔
میزبان نے کہا کہ وہ بھی آپ کی اپنی انڈسٹریاں لگی ہوتی ہے۔
شاہد خاقان عباسی نے کہاکہ جی جی سب پتہ ہوتا ہے کہ کیا کرنا ہے،سیاستدان جب دکان کھول لیں بیوروکریسی آپ کو راستے بتا دیتی ہے،ہر ایک کٹ رکھتا ہے۔
میزبان نے سوال کیا کہ ان کی اگر حکومت ختم کرنی ہو تو کرپشن کے کیس کھول کر یہ نہیں بچیں گے،پکڑے جائیں گے،اس پر شاہد خاقان عباسی نے جواب دیتے ہوئے کہاکہ کون پکڑے گا، مشکل ہوگیا پکڑنا،سب شامل ہو گئے ہیں۔
