اسرائیل میں جبری فوجی بھرتی کی مخالفت میں مظاہرے کیوں ہورہے ہیں؟

اسرائیل میں جبری فوجی بھرتی کی مخالفت میں مظاہرے کیوں ہورہے ہیں؟

اسرائیلی وزیراعظم بنجامن نیتن یاہو نے سپریم کورٹ کے جج نوم سہلبرگ کے گھر کے باہر ہونے والے پرتشدد احتجاج کی مذمت کرتے ہوئے پولیس کو شرپسند عناصر کے خلاف سخت کارروائی کی ہدایت دی ہے۔

رپورٹس کے مطابق درجنوں قدامت پسند یہودی (ہریدی) مظاہرین نے بدھ کی شب مقبوضہ مغربی کنارے کی غیرقانونی اسرائیلی بستی ایلون شوٹ میں واقع جج نوام سولبرگ کے گھر کے باہر احتجاج کیا۔ مظاہرین جبری فوجی بھرتی سے بچنے والے طلبہ کے خلاف عدالتی اقدامات پر ناراض تھے۔

مقامی میڈیا کے مطابق مظاہرین نے جج کے گھر کو نقصان پہنچایا، کھڑکیاں توڑ دیں، گاڑی کو نقصان پہنچایا اور گھر میں داخل ہونے کی کوشش بھی کی۔ واقعے کے بعد پولیس نے موقع پر پہنچ کر متعدد افراد کو حراست میں لے لیا۔

نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ جج کے گھر پر حملہ اور ہنگامہ آرائی ناقابل قبول ہے اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کو اس واقعے میں ملوث افراد کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی کرنی چاہیے۔

بعد ازاں اسرائیلی وزیرِاعظم نے نے جج سولبرگ سے ٹیلی فون پر رابطہ کرکے ان کی خیریت بھی دریافت کی۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے بھی واقعے کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایسے عناصر کا تورات یا اسرائیلی اقدار سے کوئی تعلق نہیں اور قانون کی حکمرانی میں ججوں کو دھمکانے یا ان پر دباؤ ڈالنے کی کوئی گنجائش نہیں۔

خیال رہے کہ یہ احتجاج ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب اسرائیل میں فوجی بھرتی کے قانون پر شدید سیاسی کشیدگی پائی جا رہی ہے۔

اسرائیلی حکومت غزہ، لبنان، شام اور ایران کے ساتھ جاری تنازعات کے باعث فوج میں افرادی قوت کی کمی کا سامنا کر رہی ہے اور اسی تناظر میں قدامت پسند یہودی طلبہ کو فوجی سروس سے حاصل استثنا ختم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔

جج نوام سولبرگ نے 2025 کے ایک اہم عدالتی فیصلے میں حکومت کو ہدایت دی تھی کہ فوجی بھرتی سے گریز کرنے والے ہریدی نوجوانوں کے خلاف مؤثر قانونی اور انتظامی اقدامات کیے جائیں، جس کے بعد اس مسئلے پر سیاسی اور سماجی تناؤ مزید بڑھ گیا ہے۔

دوسری جانب ہریدی مظاہرین کا مؤقف ہے کہ مذہبی تعلیم حاصل کرنے والے طلبہ کو فوجی سروس پر مجبور کرنا ان کے مذہبی حقوق کے منافی ہے، جب کہ حکومت اور عدالتی حلقے فوجی بھرتی کے نظام میں برابری کے اصول پر زور دے رہے ہیں۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *