چکوال واقعے پر سی سی ڈی اہلکار سے غلطی ہوئی، سہیل ظفر چٹھہ کا اعتراف

چکوال واقعے پر سی سی ڈی اہلکار سے غلطی ہوئی، سہیل ظفر چٹھہ کا اعتراف

مقابلے کے وقت ملزمان کے اہل خانہ بھی سامنے ہوں تو ان کی حفاظت کی جاتی ہے، سربراہ سی سی ڈی

لاہور: کرائم کنٹرول ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ سہیل ظفر چٹھہ نے اعتراف کیا ہے کہ چکوال واقعے پر سی سی ڈی اہلکار سے غلطی ہوئی،اس نے طاقت کا غلط استعمال کیا۔پریس کانفرنس کے دوران سہیل ظفر چٹھہ نے کہا کہ کراس فائرنگ کے نتیجے میں اہلکارکو غلط فہمی ہوئی، اصول ہے کہ مقابلے کے وقت ملزمان کے اہل خانہ بھی سامنے ہوں تو ان کی حفاظت کی جاتی ہے۔آئی جی پنجاب عبدالکریم نے کہا کہ کسی اہلکار کے غیر قانونی اقدام اور اختیارات سے تجاوز کو تحفظ نہیں دیںگے۔ فوجداری قوانین کے تحت میرٹ پر کارروائی کی جارہی ہے۔

اس سے قبل لاہور ہائیکورٹ میں چکوال میں 9 سالہ ہانیہ احمد قتل کیس کی شفاف تحقیقات کیلئے درخواست پر سماعت ،جسٹس شہرام سرور چوہدری نے سی سی ڈی کیخلاف درخواست مرکزی کیس کے ساتھ سماعت کیلئے مقرر کرنیکا حکم دیدیا،جوڈیشل ایکٹوازم پینل کی درخواست میںموقف اختیار کیاگیاکہ سی سی ڈی اہلکاروں کی فائرنگ سے والد اور کمسن بھائی بھی زخمی ہوئے یہ غلطی نہیں بلکہ بنیادی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے،قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ‘‘لائسنس ٹو کل’’ نہیں دیا جا سکتا، سی سی ٹی وی، وائرلیس اور اسلحہ ریکارڈ محفوظ کیا جانا چاہیے ، ہانیہ احمد کیس، پاکستان کے انسانی حقوق کے وعدوں کا امتحان ہے، سی سی ڈی کے قواعد، تربیت اور نگرانی کے نظام میں اصلاحات کی ضرورت ہے لہٰذا سانحہ کے ذمہ داروں کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کیا جائے، چکوال سانحہ پر عدالتی نگرانی میں شفاف تحقیقات کی جائیں ،عدالت نیاستفسار کیاکہ کس طرح درخواست قابل سماعت ہے یہ معاملہ پنڈی بنچ میں آتا ہے اظہر صدیق نے بتایاکہ میں یہاں سی سی ڈی کی قانونی حیثیت کے تعین کے لئے آیاہوں ، عدالت نے کہاکہ ٹھیک ہے، آپ کی درخواست کو مرکزی درخواست کے ساتھ سنیں گے۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *