پشاور: وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا سہیل آفریدی نے صوبے کی عوام کو خوشخبری سناتے ہوئے اعلان کیا ہے کہ کے پی بدعنوانی کے خلاف سخت ترین کریک ڈاؤن شروع کرتے ہوئے حکومت نے کرپشن کے تمام راستے بند کر دیے ہیں۔
انہوں نے واضح کیا کہ کرپشن کے معاملے میں کسی کے ساتھ کوئی رعایت نہیں برتی جائے گی اور صوبے میں بلاامتیاز کارروائیاں جاری ہیں۔پوسٹنگ اور ٹرانسفر کا نظام اب براہ راست وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کے تحت شفاف طریقے سے چلایا جا رہا ہے تاکہ اقربا پروری کا خاتمہ کیا جا سکے۔افسران کو دباؤ میں لانے یا دھمکانے والے عناصر کے خلاف بھی سخت قانونی کارروائی کی جائے گی۔
صوبے میں جاری احتسابی عمل کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیراعلیٰ نے انکشاف کیا کہ کرپشن کے الزامات میں اب تک 49 افسران کے خلاف انکوائریاں کی جا رہی ہیں جبکہ 19 افسران کو معطل کیا جا چکا ہے۔سنگین الزامات ثابت ہونے پر 17 اہلکاروں کو ملازمت سے فارغ کیا جا چکا ہے اور مجموعی طور پر 150 سے زائد کیسز اس وقت مختلف مراحل میں ہیں۔وزیراعلیٰ سیکریٹریٹ کی جانب سے جلد مخصوص نمبرز جاری کیے جائیں گے جہاں شہری کرپشن کی شکایت درج کرا سکیں گے۔کرپشن کے مستند ثبوت فراہم کرنے والے شہریوں کے لیے انعامات کا بھی اعلان کیا جائے گا تاکہ معاشرے سے اس ناسور کا جڑ سے خاتمہ ممکن ہو سکے۔
