وزیراعظم محمد شہباز شریف چیف آف آرمی اسٹاف و چیف آف ڈیفنس فورسز فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے ہمراہ اعلیٰ سطحی وفد کے ساتھ سوئٹزرلینڈ پہنچ گئے ہیں، جہاں وہ ’اسلام آباد مفاہمتی یادداشت‘ پر عملدرآمد کے سلسلے میں ہونے والے اہم مذاکرات میں شرکت کریں گے۔
وزیراعظم آفس کے جاری کردہ اعلامیے کے مطابق اسلام آباد مفاہمتی یادداشت پر دستخط کے بعد اس پر عملدرآمد کے حوالے سے آج سوئٹزرلینڈ کے شہر برگن اسٹاک میں تکنیکی اور اعلیٰ سطحی مذاکرات منعقد ہوں گے، جن میں پاکستان، ایران، امریکا اور دیگر متعلقہ فریقوں کے نمائندے شریک ہوں گے۔
اعلامیے کے مطابق وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر مذاکراتی عمل میں پاکستان کی نمائندگی کریں گے۔ وزیراعظم اپنے وفد کے ہمراہ زیورخ پہنچ چکے ہیں، جہاں سے وہ برگن اسٹاک میں ہونے والے اجلاس میں شرکت کریں گے۔
ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق وزیراعظم مذاکرات کے موقع پر شریک ممالک کے وفود کے ساتھ دوطرفہ ملاقاتیں بھی کریں گے۔
ان ملاقاتوں میں ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت پر مؤثر عملدرآمد، علاقائی امن، اقتصادی تعاون اور باہمی دلچسپی کے دیگر امور پر تبادلہ خیال کیا جائے گا۔
دفتر خارجہ کا کہنا ہے کہ پاکستان ایران اور امریکا کے درمیان طے پانے والی مفاہمتوں کے نفاذ میں اپنا تعمیری اور سہولت کار کردار جاری رکھے گا اور خطے میں امن، استحکام اور سفارتی حل کے فروغ کے لیے اپنی کوششیں برقرار رکھے گا۔
دوسری جانب امریکی وفد کے اہم ارکان اسٹیو وٹکوف اور جیرڈ کشنر پہلے ہی سوئٹزرلینڈ پہنچ چکے ہیں، جب کہ امریکی نائب صدر جے ڈی وینس بھی مذاکرات میں شرکت کے لیے وہاں موجود ہیں۔
ادھر ایران کا اعلیٰ سطحی مذاکراتی وفد بھی سوئٹزرلینڈ پہنچ گیا ہے۔ ایرانی میڈیا کے مطابق وفد کی قیادت ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف کر رہے ہیں، جب کہ وزیر خارجہ عباس عراقچی، سپریم نیشنل سکیورٹی کونسل کے سینئر عہدیدار علی باقری، مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی، کاظم غریب آبادی اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی بھی وفد میں شامل ہیں۔
مبصرین کے مطابق برگن اسٹاک مذاکرات کو ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ مفاہمت کو عملی شکل دینے کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، جس میں جوہری پروگرام، اقتصادی پابندیوں، آبنائے ہرمز، علاقائی سلامتی اور جنگ بندی سے متعلق امور پر پیش رفت متوقع ہے۔
