ایسی سپورٹ جو لاڈلے کو ملی اگر ہماری کسی حکومت کو 30 فیصد بھی ملی ہوتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جاتا‘ وزیراعظم شہبازشریف کی مئی 2022 کی ویڈیو وائرل

 ایسی سپورٹ جو لاڈلے کو ملی اگر ہماری کسی حکومت کو 30 فیصد بھی ملی ہوتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جاتا‘ وزیراعظم شہبازشریف کی مئی 2022 کی ویڈیو وائرل

کراچی: وزیراعظم شہبازشریف  کی مئی 2022 کی ویڈیو  ایک بار پھر وائرل ہورہی ہے جس میں انہیں یہ کہتے ہوئے سنا جاسکتا ہے کہ ’ ایسی سپورٹ جو لاڈلے کو ملی اگر ہماری کسی حکومت کو 30 فیصد بھی ملی ہوتی تو پاکستان راکٹ کی طرح اوپر جاتا، جو اربوں ڈالر کا قرضہ لیا وہ کہاں گیا، قوم چبھتے ہوئے سوالوں کا جواب چاہتی ہے‘ ۔

 وزیراعظم شہباز شریف نے کہا ہے کہ پی ٹی آئی چیئر مین عمران خان نے اگلی حکومت کیلئے جال بچھایا ، عدم اعتماد کے ڈر سے پٹرولیم قیمتیں کم کردیں، ہماری نئی سرکار کو سرمنڈواتے ہی اولے پڑے ، اب مشکل آن پڑی ہے توپھرقربانی دینا پڑے گی۔لاڈلے کو مقتدر ادارے سے حمایت ملی اسکا 30 فیصد بھی ہمیں ملتا تو ملک راکٹکی طرح اوپر جاتا ، روپیہ ہچکولے کھا رہا ، کاروباری حضرات بتائیں اسکا کیا حل ہے ، سعودیہ، قطر اور دیگر ملکوں سے پیسے مانگنے میں ہم ڈھیٹ بن چکے ،وزیر اعظم نے سولر ٹیکنالوجی کی درآمد پر 17 فیصد ٹیکس فوری ختم کرنے کا اعلان کیا ۔

انہوں نے کہا ساڑھے تین سال ملک کو کھوکھلا اور برباد کرنے کے بعد اب غداری اور وفاداری کے سرٹیفکیٹ بانٹے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا عام آدمی کی زندگی اجیرن ہو چکی ہے ایسے میں پرتعیش اور غیر ضروری اشیا کیلئے حکومت نے ایک مدت کیلئے درآمد پر پابندی عائد کی ہے ، ہم چاہتے تو ڈیوٹی بھی بڑھا سکتے تھے لیکن ڈیوٹی اگر 200 فیصد بھی کر دیتے تو اللہ نے جن کو حیثیت دی ہے وہ پھر بھی یہ پرتعیش اشیا منگواتے ، ہمیں کسی بھی طرح زرمبادلہ بچانا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ہم 4 ارب ڈالر کا خوردنی تیل درآمد کرتے ہیں، ہم پرتعیش اشیا کی درآمد پر پابندی لگا کر خوردنی تیل کیلئے پیسے بچا سکتے ہیں، یہ قومی خدمت ہے ، جب مشکل آن پڑی ہے تو قربانی دینا ہو گی اور یہ قربانی ان کو دینا ہو گی جن کو اللہ نے زیادہ نوازا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا غریب آدمی یتیم، بیوہ جن کے پاس دوائی، دودھ اور بنیادی ضرورتوں کیلئے پیسے نہیں وہ دیکھتے ہیں کہ اشرافیہ پرتعیش اشیا منگواتی ہے ، ہر چیز باہر سے منگوانے سے مقامی انڈسٹری کا بھی نقصان ہوتا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا حکومتی اقدامات سے ملک میں استحکام آئے گا، تاجروں اور صنعتکاروں کو اس میں اپنا کردار ادا کرنا ہو گا، ہمیں مل کر ملک کی تقدیر بدلنی ہے ، اگر جاپان، جرمنی اور چین مشکل حالات سے نکل کر دنیا کی بڑی معاشی طاقتیں بن سکتے ہیں تو کیا ہماری تقدیر میں لکھا ہے کہ ہم ہمیشہ بھکاری رہیں گے ؟ نہیں۔ انہوں نے کہا دن رات محنت کرنا ہو گی اور خون پسینہ بہانا ہو گا ، کمزور پر دست شفقت رکھنا ہو گا۔

وزیراعظم نے کہا ہم ایٹمی طاقت ہیں اور کسی نے ہم پر میلی نظر ڈالی تو ہم اس کو خاک میں ملا سکتے ہیں لیکن ہم آئی ٹی کے شعبہ میں بھارت سے پیچھے رہ گئے ہیں، ہمارے نوجوان قابل ہیں ، آئی ٹی میں بھارت کا مقابلہ کر سکتے ہیں، میں نے آئی ٹی کے وزیر کو کہا ہے کہ دو سال میں آئی ٹی کے شعبہ میں 15 ارب ڈالر کی ایکسپورٹ کا منصوبہ بنایا جائے ۔ وزیراعظم نے سندھ حکومت پر زور دیا کہ وہ اتحادی جماعتوں اور کاروباری برادری کے ساتھ بیٹھ کر منصوبے بنائے ، تمام صوبوں میں آئی ٹی ٹاور بنیں اور نوجوانوں کو تربیت فراہم کی جائے تو آئی ٹی ہماری سب سے بڑی صنعت بن سکتی ہے ۔ وزیراعظم نے کہا ایک شفاف پالیسی کے ذریعے وفاق اور صوبے مل کر ایکسپورٹ انڈسٹریل زون بنا سکتے ہیں، جگہ کی نشاندہی کرکے اس پر انفراسٹرکچر ڈویلپ کیا جائے اور ایکسپورٹرز کو زمین مفت دی جائے تاکہ وہ صنعتیں لگائیں، اس کیلئے ون ونڈو آپریشن ہو اور بینکوں سے قرضے بھی جاری کئے جائیں تو ہم درآمدی کی بجائے برآمدی ملک بن سکتے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا دیہات میں ایگرو بیسڈ انڈسٹریز لگائی جائیں تاکہ شہروں کی طرف نقل مکانی کا رجحان کم ہو، یہ اقدامات کریں تو ہمیں منتیں کرکے جی ایس پی پلس کرانے کی ضرورت نہیں رہے گی۔

وزیراعظم نے کہا چین ہمارا بہترین دوست ہے لیکن سی پیک پر بھونڈے الزامات سے اسے ناراض کیا گیا اور منصوبوں پر کام سست ہو گیا، چین نے کراچی سرکلر ریلوے کیلئے مجھے یقین دہانی کرائی ہے ، اب ہمیں خود آگے بڑھ کر عملی اقدامات کرنے ہیں۔ انہوں نے بتایا کراچی میں پانی کے مسئلے کے حل کیلئے سعودی عرب نے ایک ارب ڈالرز سرمایہ کاری کا تحفہ دیا ہے ، سعودی عرب جاتے ہیں، وہ ہمارے بھائی ہیں، وہ انکار نہیں کریں گے لیکن ہم کس منہ سے سعودی عرب جاتے ہیں، کس شکل سے جاتے ہیں، یہ ہمارا ہی حوصلہ ہے ، سعودی عرب، قطر اور دیگر ملکوں سے پیسے مانگنے میں ہم ڈھیٹ بن چکے ہیں۔وزیراعظم نے انکشاف کیا ایک دوست ملک نے پاکستان کے قرض واپسی کی مدت آگے بڑھادی ہے ۔انہوں نے کہا دوست ملک کا نام نہیں بتاؤں گا لیکن اس نے قرض رول اوورکرنے کی پیشکش خود کی، میں نے دوست ملک کاشکریہ ادا کیا، شرم آرہی تھی کس منہ سے پہلی گفتگو میں کہیں کہ کشکول لے آئے ، کب تک کشکول پر زندہ رہیں گے ؟ 75 سال گزر گئے ہیں۔ان کا کہنا تھا یورپی یونین کو ہم کیا کیا صلواتیں نہیں سنا چکے ، انہوں نے پھر بھی ہمیں اچھی یقین دہانی کرائی ہے ۔

وزیراعظم کا کہنا تھا ہیگ سے ٹیولپ روزانہ آسکتے ہیں تو سندھ کی زرعی پیداوار خلیجی ممالک کیوں نہیں بھیجی جاسکتی؟ان کا مزید کہنا تھا گزشتہ روز چینی وفد سے ملاقات ہوئی، وہ پچھلی حکومت سے بہت ناراض ہیں، نہ ونڈ پاور پر نہ سولر پاور پر کام کیا، ساڑھے تین سال پچھلی حکومت کیا مکھیاں مارتی رہی ہے ؟ ۔سولر پاور اور ونڈ پاور پر بہت تیزی سے کام کرنا ہوگا، کوئی جادو یا چھو منتر نہیں، آگے بڑھنے کیلئے محنت کرنا ہوگی۔وزیراعظم نے کراچی کے صنعتکاروں کی طرف سے تجویز کے جواب میں کہا بلاشبہ سندھ 62 فیصد گیس فراہم کرتا ہے لیکن ایسا فارمولا بنایا جائے کہ کراچی کی صنعت کو بھی فائدہ ہو اور پاکستان کو بھی، اگر گھریلو گیس بند کریں گے تو عوام کو مشکل ہو جائے گی۔ وزیراعظم نے کہا پاکستان سالانہ 20 ارب ڈالر کی پٹرولیم مصنوعات درآمد کرنے کا متحمل نہیں ہو سکتا، ہماری امپورٹ ایکسپورٹ میں 45 ارب ڈالر کا فرق ہے ، یہ ہم کہاں سے پورا کریں گے ، ہمیں توانائی کے متبادل ذرائع کی طرف جانا ہو گا، سندھ، بلوچستان، کے پی کے اور پنجاب سمیت ملک میں سولر اور ونڈ کے منصوبے شروع کئے جا سکتے ہیں لیکن اس میں کچھ وقت لگے گا، گرین انرجی سے 20 ارب ڈالر بچائے جا سکتے ہیں۔

انہوں نے سولر ٹیکنالوجی کی درآمد پر 17 فیصد ٹیکس فوری ختم کرنے کا اعلان کردیا۔ اس کے علاوہ وزیراعظم نے معاشی صورتحال کی بہتری کیلئے صنعت کاروں سے تجاویز بھی مانگیں۔انہوں نے تاجر برادری کو مخاطب کرتے ہوئے کہا روپیہ ہچکولے کھا رہا ہے ، آپ کاروباری لوگ ہیں حکومت کو بتائیں کہ اس کا کیا حل ہے ۔بحری جہاز پی این ایس بدر کی لانچنگ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے کہا پاک ترک تعلقات کو نئی بلندیوں تک لے جانے کا آغاز ہو گیا ہے ، دونوں ممالک نے ہر مشکل گھڑی میں ایک دوسرے کا بھرپور ساتھ دیا، پی این ایس بدر پاکستان اور ترکی کے اشتراک کی بہترین مثال ہے ، جلد پاکستان کی ترقی اور خوشحالی میں ترکی کا بڑا حصہ ہوگا، سی پیک منصوبہ علاقائی روابط کے فروغ کیلئے نہایت اہم ہے ۔ بحری جہاز ترکی کے ایم ایس اسفات کے تعاون سے کراچی شپ یارڈ میں تیار کیا گیا ہے ۔ وزیراعظم نے کہا اس تقریب میں شرکت کرنا میرے لئے اعزاز کی بات ہے ، پاک بحریہ کے سربراہ، ترک کمپنی اور شپ یارڈ کے عملے کو اس عظیم کامیابی پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے کہاترکی کے صدر رجب طیب اردوان پاکستان کے بھائی اور دوست ہیں اور وہ پاکستان کاز کے بڑے حامی ہیں،پاک بحریہ اور ترکی کی کمپنیوں کے درمیان تعاون سے ہمارے تعلقات مزید مستحکم ہوں گے اور ہم ترکی کی مہارت اور ٹیکنالوجی سے استفادہ کریں گے ۔اس موقع پر وزیراعظم نے کراچی شپ یارڈ اینڈ انجینئرنگ ورکس کے عملے کیلئے 10 کروڑ روپے کا بھی اعلان کیا۔ 

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *