رحیم یار خان کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک بوڑھا کسان اپنے پوتے کو اسکول بھیجنے کا خواب دیکھتا ہے۔ ملتان کے ایک محلے میں ایک ماں اپنے کینسر زدہ بیٹے کو لے کر لاہور کا سفر کرتی ہے، کیونکہ اس کے شہر میں علاج کی سہولت نہیں۔ بہاولپور کی ایک نوجوان لڑکی فلم بنانا چاہتی ہے مگر فلم سٹی لاہور میں بنے گی، اس کے شہر میں نہیں۔
یہ صرف تین کہانیاں نہیں، یہ جنوبی پنجاب کے کروڑوں لوگوں کی وہ حقیقت ہے جو ہر سال بجٹ کے وقت اور گہری ہو جاتی ہے۔
انگریزی اخیار ’ڈان‘ کی رپورٹ کے مطابق مالی سال 2026-27 کے لیے پنجاب کا کل بجٹ 5,903 ارب روپے ہے، اور ترقیاتی بجٹ 752 ارب روپے رکھا گیا ہے، جس میں سماجی شعبے کو سب سے بڑا حصہ 333.66 ارب روپے ملا ہے۔
لیکن سوال یہ ہے، یہ رقم کہاں جائے گی؟
پاکستان ٹوڈے لکھتا ہے کہ نواز شریف میڈیکل ڈسٹرکٹ کی کل لاگت 169 ارب روپے ہے۔ نواز شریف انسٹی ٹیوٹ آف کینسر ٹریٹمنٹ اینڈ ریسرچ کے لیے 20 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔
فلم سٹی لاہور کے لیے 55 ارب روپے مختص ہیں اور اس کی قانون سازی پنجاب اسمبلی سے پہلے ہی ہو چکی ہے۔ مریم نواز سپورٹس سٹی لاہور کی کل تخمینہ لاگت 50 ارب روپے ہے۔ صرف یہی چار منصوبے مل کر 294 ارب روپے سے تجاوز کرتے ہیں، اور یہ صرف لاہور کے لیے ہیں۔
سوال پھر وہی ہے سب کچھ لاہور کو مل گیا تو باقی پنجاب کے حصے میں کیا آیا؟ کلثوم نواز کینسر ہسپتال ڈیرہ غازی خان کے لیے 15 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، اور بہاولپور چلڈرن ہسپتال کے لیے 23 ارب روپے رکھے گئے ہیں۔ یعنی جنوبی پنجاب کے دو بڑے شہروں کو ملا کر 38 ارب روپے ملے، جبکہ لاہور کے ایک اکیلے کینسر ہسپتال کو 20 ارب دیے گئے۔ اور کنونشن سینٹر لاہور کے لیے 180 ملین روپے بھی رکھے گئے ہیں۔
ملتان، بہاولپور، ڈیرہ غازی خان، یہ شہر پنجاب کا زرعی، کپاس اور مزدور کا دل ہیں۔ یہاں کا کسان ٹیکس دیتا ہے، لیکن اس کا بچہ علاج کے لیے لاہور جاتا ہے۔ فلم سٹی اور سپورٹس سٹی اس کے خواب نہیں، اس کی ضرورت ایک مقامی ہسپتال اور کالج ہے۔
مواصلات اور تعمیرات کے لیے 74.1 ارب اور آبپاشی کے لیے 30 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، مگر یہ رقم کہاں جائے گی، کس ضلع میں، کس منصوبے پر؟ حکومت یہ تفصیل ضلع وار یا ڈویژن وار نہیں بتاتی۔ شفافیت کا یہ فقدان ہی اصل مسئلہ ہے۔
حکومت کا مؤقف ہے کہ ترقی پورے صوبے میں ہو رہی ہے۔ ایک سرکاری بیانیے کے مطابق آج لاہور سے راولپنڈی تک اور اٹک سے رحیم یار خان تک ترقیاتی منصوبے نظر آتے ہیں۔ مگر “نظر آنا” اور “برابر ملنا” دو الگ باتیں ہیں۔
ترقیاتی بجٹ میں 3,560 منصوبے شامل ہیں، 3,117 جاری اور 420 نئے۔ لیکن ان میں سے جنوبی پنجاب کے کتنے؟ ضلع راجن پور کے کتنے؟ ضلع مظفرگڑھ کے کتنے؟ کوئی نہیں جانتا۔ کیونکہ حکومت ضلع وار اعداد و شمار جاری نہیں کرتی۔
جب تک حکومت ہر ضلع اور ڈویژن کا ریونیو اور اخراجات الگ الگ شائع نہیں کرتی، تب تک ہر بجٹ کے موسم میں ایک ہی سوال اٹھتا رہے گا۔ کیا پنجاب کا بجٹ صوبے کا بجٹ ہے، یا صرف لاہور کا؟ اور وہ بوڑھا کسان، وہ کینسر زدہ بچے کی ماں، وہ فلم بنانے کی خواہشمند بہاولپوری لڑکی…. سب ابھی بھی جواب کا انتظار کر رہے ہیں۔
تحریر: اظہر تھراج
نوٹ: بلاگر کے ذاتی خیالات سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔ ایڈیٹر
