امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ میں نے امریکی مذاکرات کاروں کو ہدایت دی ہے کہ ایران کے ساتھ کسی بھی ممکنہ معاہدے میں جلد بازی نہ کی جائے۔
ٹروتھ سوشل پر جاری اپنے بیان میں امریکی صدر نے کہا کہ امریکا اور ایران کے درمیان مذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، تاہم ٹیم کو واضح ہدایت دی ہے کہ کسی معاہدے میں جلدی نہ کریں، کیونکہ وقت ہمارے حق میں ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران کی بندرگاہوں پر امریکی ناکہ بندی کسی بھی حتمی معاہدے تک برقرار رہے گی، جب کہ اس حوالے سے ایک تفصیلی بیان جلد جاری کیا جائے گا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے بیان میں سابق امریکی صدر براک اوباما کے دور میں ہونے والے ایران جوہری معاہدے کو امریکی تاریخ کے بدترین معاہدوں میں سے ایک قرار دیا۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ اوباما انتظامیہ کا معاہدہ ایران کو جوہری ہتھیار بنانے کی طرف ایک براہِ راست قدم تھا، جب کہ موجودہ مذاکرات اس کے برعکس سمت میں جا رہے ہیں۔

امریکی صدر نے کہا کہ ایران پر امریکی پابندیاں اُس وقت تک برقرار رہیں گی جب تک کوئی معاہدہ مکمل طور پر طے، تصدیق اور دستخط نہ ہو جائے۔
انہوں نے کہا کہ امریکا اور ایران کے تعلقات زیادہ پیشہ ورانہ اور مثبت سمت میں جا رہے ہیں، لیکن ایران کو یہ سمجھنا ہوگا کہ اسے کسی صورت جوہری ہتھیار یا ایٹم بم حاصل کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
امریکی صدر نے مشرقِ وسطیٰ کے ممالک کے تعاون کو سراہتے ہوئے کہا کہ خطے میں شراکت داری مستقبل میں مزید مضبوط ہوگی، خاص طور پر ابراہم اکارڈز کے دائرہ کار میں۔
انہوں نے یہ اشارہ بھی دیا کہ مستقبل میں ایران بھی ممکنہ طور پر ابراہیمی معاہدوں میں شمولیت میں دلچسپی لے سکتا ہے۔
