ایک رسی سے شروع ہونے والی ’جنگ‘ ہائپر سونک میزائلوں تک کیسے پہنچی؟

ایک رسی سے شروع ہونے والی ’جنگ‘ ہائپر سونک میزائلوں تک کیسے پہنچی؟

ساہیوال اور اوکاڑہ پنجاب کے شہر ہیں جن کے درمیان لگ بھگ 37 کلومیٹر کا فاصلہ ہے لیکن حالیہ کچھ دنوں سے دونوں شہروں کے درمیان خیالی جنگ توجہ کا مرکز بنی ہوئی ہے۔

 یہ جنگ کسی میدان پر نہیں بلکہ  سوشل میڈیا پلیٹ فارم انسٹاگرام پر لڑی جا رہی ہے۔ دونوں شہروں کے حامی اپنے اپنے شہر کے حق میں بھرپور میمز بنا رہے ہیں ۔ 

ایک دوسرے کے شہر پر پٹاخوں شرلیوں اور آتش بازی کی وڈیوز کو  سرجیکل سڑائیکس، ہائپر ساؤنک میزائل اور بارودی ہتھیاروں سے تشبیہ دے کر استعمال کیا جا رہا ہے جبکہ مختلف ٹریننگز کی مزاحیہ  ویڈیوز کو اسپشل فورسز بنا کر پیش کیا جا رہا ہے ۔

تاہم اس جنگ کے مزاح نے تمام  شہروں کے صارفین کی توجہ اپنی جانب کھینچ لی ہے اور وہ کسی نہ کسی شہر سے یکجہتی کرتے نظر آ رہے ہیں کچھ صارفین کی جانب سے  اپنے اپنے شہر میں امن مذاکرات کروانے کی پیش کش بھی سامنے آئی ہے ۔

یہ جنگ پاکستانی صارفین کی زندہ دلی، حس مزاح  اور تخلیقی صلاحیتوں کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یاد رہے پچھلے سال  پاکستان اور انڈیا جنگ میں بھی پاکستانی میمرز کی جانب سے  انڈین افواج اور  انڈین میڈیا کے دعوؤں کو بھی خوب ٹرول کے ذریعے بے نقاب کیا گیا تھا ۔

اس جنگ کے حتمی آغاز اور وجوہات کا اندازہ تو نہیں لگایا جا سکتا تاہم بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اس کا آغاز ایک چینل 67 اوکاڑہ نامی انسٹاگرام اکاؤنٹ سے ہوا۔

یہ اکاؤنٹ اسی سال مارچ میں بنایا گیا اور دو مئی کو اس پر پہلی پوسٹ ہوئی۔ یہ ایک ویڈیو تھی جس میں ایک شخص نہر کے دو کناروں سے باندھی گئی رسی پر چلنے کی کوشش کرتے ہوئے پانی میں جا گرتا ہے۔ اس پر کیپشن درج ہے ’اوکاڑہ نہر پر بنائے گئے نئے پل پر دوبارہ تجربات۔‘

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *