پاک چین شراکت داری اب ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار

پاک چین شراکت داری اب ڈیجیٹل معیشت کی جانب بڑھ رہی ہے، نائب وزیر اعظم اسحاق ڈار

پاکستان اور چین کی شراکت داری اب روایتی تعاون کے دائرے سے نکل کر ڈیجیٹل معیشت، مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجی کے نئے مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، جس کا اعتراف نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے اسلام آباد میں منعقدہ ایک اہم تقریب سے خطاب کے دوران کیا۔

اسحاق ڈار نے کہا کہ پاکستان اور چین کی دوستی محض سفارتی یا معاشی تعلق نہیں بلکہ وقت، حالات اور چیلنجز سے بالاتر ایک مضبوط اسٹریٹجک رشتہ ہے، جس نے دہائیوں سے دونوں ممالک کو تجارت، توانائی، انفراسٹرکچر اور عوامی روابط کے میدان میں قریب رکھا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی پی آئی ڈیجیٹل اکانومی ہیڈکوارٹرز کا آغاز دونوں ممالک کے تعلقات میں ایک اہم سنگ میل ہے، جو ڈیجیٹل رابطہ کاری اور مستقبل کی معیشت کی طرف مشترکہ پیش رفت کی علامت ہے۔ ان کے مطابق اب پاکستان اور چین سڑکوں اور انفراسٹرکچر سے آگے بڑھ کر فائبر آپٹک نیٹ ورکس، مصنوعی ذہانت اور ڈیجیٹل نظاموں میں تعاون کو وسعت دے رہے ہیں۔

نائب وزیراعظم نے کہا کہ چین نے ہر مشکل وقت میں پاکستان کا ساتھ دیا، جبکہ سی پیک منصوبوں نے ملک کے توانائی بحران اور رابطہ نظام کو بہتر بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کے مطابق یہ تعلق اب محض تعاون نہیں بلکہ ایک حقیقی برادرانہ شراکت داری کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

بیلٹ اینڈ روڈ انیشی ایٹو اور سی پیک کے تحت اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری پاکستان میں آ چکی ہے، اور اب اس تعاون کا دائرہ زراعت، تعلیم، ماحولیاتی تبدیلی، ڈیزاسٹر مینجمنٹ، اسمارٹ سٹی منصوبوں اور ڈیجیٹل ٹرانسفارمیشن تک پھیل رہا ہے۔

اسحاق ڈار کے مطابق پاکستان اور چین کے درمیان مجوزہ ڈیجیٹل کوریڈور نہ صرف دوطرفہ تعلقات کو مضبوط کرے گا بلکہ گلوبل ساؤتھ کے دیگر ممالک کے لیے بھی نئے معاشی مواقع پیدا کرے گا۔

 پاکستان اب ایک ابھرتی ہوئی معاشی حقیقت ہے، جہاں 24 کروڑ آبادی، نوجوان افرادی قوت اور بڑھتی ہوئی ڈیجیٹل کنیکٹیویٹی ملک کو سرمایہ کاری کے لیے پرکشش بنا رہی ہے۔ ان کے مطابق پاکستان خطے میں ڈیجیٹل سرمایہ کاری اور ٹیکنالوجی کا مرکز بننے کی مکمل صلاحیت رکھتا ہے۔

تقریب سے خطاب میں اسحاق ڈار نے کہا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں حکومت نے آئی ٹی اور ڈیجیٹل معیشت کو اعلیٰ ترین قومی ترجیحات میں شامل کر لیا ہے، اور ملک تیزی سے ڈیجیٹل تبدیلی کے مرحلے سے گزر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ آئی ٹی برآمدات میں اضافہ پاکستان کی عالمی ڈیجیٹل معیشت میں بڑھتی ہوئی مضبوط پوزیشن کا واضح ثبوت ہے، جبکہ چینی کمپنیوں کے ساتھ شراکت داری نئے کاروباری مواقع پیدا کر رہی ہے۔

اسحاق ڈار نے چینی سرمایہ کاروں اور کمپنیوں کو دعوت دی کہ وہ پاکستان میں موجود مواقع سے فائدہ اٹھائیں، کیونکہ حکومت اسپیشل انویسٹمنٹ فیسلیٹیشن کونسل (SIFC) کے ذریعے سرمایہ کاروں کو ہر ممکن سہولت فراہم کر رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان اس وقت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے، جو ترقی اور معاشی تعاون کے نئے دروازے کھول رہا ہے، جبکہ ڈیجیٹل تجارت، مینوفیکچرنگ اور توانائی سمیت مختلف شعبوں میں عملی تعاون تیزی سے فروغ پا رہا ہے۔

اپنی گفتگو میں انہوں نے 2013 کے معاشی حالات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس وقت ملک شدید توانائی بحران اور لوڈشیڈنگ کا شکار تھا، تاہم بعد کے برسوں میں اصلاحات اور منصوبہ بندی کے ذریعے صورتحال میں بہتری آئی۔

انہوں نے اس امید کا اظہار کیا کہ موجودہ حکومتی اقدامات، نجی شعبے کے تعاون اور بین الاقوامی شراکت داری کے ذریعے پاکستان جلد دوبارہ ترقی کی راہ پر گامزن ہو جائے گا اور عالمی معیشت میں اپنا مقام مزید مستحکم کرے گا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *