آئندہ مالی سال کے وفاقی بجٹ کی پیشی کے شیڈول میں تبدیلی کا امکان پیدا ہو گیا ہے، جبکہ 5 جون کو بجٹ پیش کیے جانے کی اطلاعات کو عملی طور پر مؤخر کر دیا گیا ہے، قومی اقتصادی کونسل (این ای سی) کا اہم اجلاس ملتوی ہونے کے بعد بجٹ کی تیاری اور منظوری کے عمل میں بھی ردوبدل متوقع ہے۔
سرکاری ذرائع کے مطابق 3 جون کو منعقد ہونے والا قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس ملتوی کر دیا گیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اجلاس میں سالانہ ترقیاتی پروگرام، معاشی اہداف اور آئندہ مالی سال کے اہم اقتصادی خدوخال کا جائزہ لیا جانا تھا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ تاحال طے نہیں کی جا سکی، جس کے باعث وفاقی بجٹ کی پیشی کی حتمی تاریخ بھی غیر یقینی صورتحال کا شکار ہے۔ حکومتی حلقوں میں مختلف تاریخوں پر غور جاری ہے اور جلد نئی تاریخ کا اعلان متوقع ہے۔
معاشی امور سے وابستہ ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ 8 جون یا 12 جون کو پیش کیے جانے کا امکان زیر غور ہے، تاہم اس حوالے سے حتمی فیصلہ اعلیٰ سطحی مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔ دوسری جانب قومی اسمبلی کے ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ 10 جون کو پارلیمنٹ میں پیش کیے جانے کا قوی امکان موجود ہے۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ کا اعلان بعد میں کیا جائے گا، جبکہ متعلقہ ادارے بجٹ دستاویزات کو حتمی شکل دینے کے عمل میں مصروف ہیں۔
اقتصادی ماہرین کے مطابق قومی اقتصادی کونسل کا اجلاس بجٹ سازی کے عمل میں کلیدی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ اسی فورم پر آئندہ مالی سال کے ترقیاتی اخراجات، معاشی اہداف، وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم اور دیگر اہم مالی معاملات کی منظوری دی جاتی ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ حکومت بجٹ میں عوامی ریلیف، ترقیاتی منصوبوں، ٹیکس اصلاحات اور معاشی استحکام سے متعلق مختلف تجاویز کا جائزہ لے رہی ہے۔ اسی لیے بجٹ کی حتمی تاریخ کے تعین سے قبل کئی اہم معاملات پر مشاورت جاری ہے۔
سیاسی اور معاشی حلقے وفاقی بجٹ کا بے چینی سے انتظار کر رہے ہیں کیونکہ آئندہ مالی سال کے بجٹ میں مہنگائی، ٹیکس پالیسی، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں، پنشن اور ترقیاتی منصوبوں سے متعلق اہم اعلانات متوقع ہیں۔
حکومتی ذرائع کے مطابق جیسے ہی قومی اقتصادی کونسل کے اجلاس کی نئی تاریخ طے ہوگی، وفاقی بجٹ کی پیشی کا باقاعدہ شیڈول بھی جاری کر دیا جائے گا تاکہ پارلیمانی کارروائی اور بجٹ منظوری کے مراحل بروقت مکمل کیے جا سکیں۔
